یو ٹرن کا شوشہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا شخصیت پرستی کا عفریت

یو ٹرن کا شوشہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا شخصیت پرستی کا عفریت
گزشتہ دنوں محترم وزیر اعظم صاحب نے اپنے فیصلوں اور کئے گئے وعدوں میں وقت کے ساتھ ساتھ جن تبدیلیوں سے قوم کو حیران و پریشان کیا۔ انکو حلال کرنے اور قوم کی نظروں میں اپنے فیصلوں سے خود انحرافی کو شرف قبولیت بخشنے کے لئے اپنے فکر و نظر کی بلندیوں کا استعمال کرتے ہوئے یو ٹرن کی کچھ ایسی تعریف کر ڈالی ۔ کہ عقل و خرد سے تعلق رکھنے والے ابھی تک پریشاں اور محو فکر ہیں ۔۔ کہ کیا قومی اور ملکی قیادت اس قدر علوم وافکار سے نا آشنا ہو سکتی ہے؟؟؟عمران خان کی صلاحیات کا انکار نہیں مگر وہ ایک علمی شخصیت قطعا نہیں لہذا ان سے اس طرح کی تفاصیل ، اصطلاحات کی غلط تشریح اور عجیب و غریب منطق کا سننا بعید از قیاس نہیں۔۔مگر اس منطق کو تحریک انصاف کی پوری قیادت جس بھونڈے انداز میں آمنا و صدقنا کا جامہ پہنا کر پوری قوم کے سامنے دن رات میڈیا پر بیٹھ کر اپنے ضمیر کو کوڑیوں کے مول بیچ رہی ہے ۔ اسکو دیکھ کے یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ یہ قوم کی شاید بدقسمتی ہے یا پھر اللہ کی اس قوم سے ناراضگی ہے کہ قیادت ایسی ملی جو کہ مصلحتوں کی اسیر ہے۔ جنکے سامنے شخصیت کا جن منہ کھول کے بیٹھا ہے۔ انکی اپنی نہ کوئی رائے ہے اور نہ ہی انکے ضمیر کی کوئی آواز ہے۔ بس لیڈر محترم نے جو کہہ دیا اسکو صحیح ثابت کرنے بھلے اللہ رسول کی ناراضگی ہو یا پھر پوری قوم انکی بے ضمیری پر خندہ زن ہو۔ انہیں تو بس شاہ کا وفادار بن کر وقتی فائدوں کے گنگا میں ہاتھ دھونے ہیں ۔
بدقسمتی یہ کہ خان صاحب نے جس فلسفے کا ایجاد کیا انسانی تاریخ میں شاید ہی یہ انوکھا اور اپنے طرز کاعجیب و غریب فلسفہ ہو۔ مجھے امید ہے کہ نہ تو خان صاحب کو لغوی معنوں سے سروکار ہے اور نہ ہی یو ٹرن کے اصطلاحی معنوں سے کوئی غرض ۔۔۔انہوں نے ایک شوشہ چھوڑ دیا ۔۔ اور ذاتی کردار سے محروم تحریک انصاف کے حواری خان صاحب کے اس بیان کو اپنے مفاد کے پیش نظر اپنی مرضی کا جامہ پہنانے لگے۔۔
ویسے یو ٹرن اصطلاحا وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں انسان اپنے فکر و نظر ، یا عقیدے یا پھر کسی سے کئے گئے وعدے سے منحرف ہو۔ یا اعراض کر لے یا پھر مکمل طور پر اس سے انکاری ہو۔۔ اپنے سیاسی حکمت عملی میں حالات و واقعات کو دیکھ کر اور ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر وقت کے تقاضوں کے مطابق تبدیلی کرنا یو ٹرن نہیں بلکہ حکمت عملی میں تبدیلی ہوتی ہے اور تبدیلی ہمیشہ بتدریج یا پھر جزاً اور یا پھر کسی خاص سمت میں ہوتی ہے اپنے قول و فعل کے بالکل مخالف سمت میں نہیں ہوتی ۔۔ ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ تبدیلی اپنے قول و فعل کی کلیا نفی کرنے کو نہیں کہتے ہیں اس کو اپنے قول و فعل سے انحراف یا پھر اعراض کہتے ہیں
لیکن خان صاحب کے کاسہ لیسوں نے حد کر دی ۔۔ نلکہ وقت کے ابولفضل اور فیضی نے تو شرم و حیا کے سارے حدود بھی پار کردئے۔ ؤآج ہی میں عامر لیاقت حسین کا ٹویٹ پڑھا کہ شریعت میں اسکو رجوع کہتے ہیں اور رجوؑ اللہ کی طرف باعث ثواب ہے۔۔ اس ملعون نما ذہن کے مالک نے یہ نہیں کہا۔ کہ رجوع گناہوں سے اور اللہ کی نافرمانی سے اللہ کی بندگی کی طرف باعث ثواب ہے نہ کہ قرآن نے جس کو دوست نہ رکھنے کا حکم دیا آپ انکی دوستی کی وکالت کرنے میں اتنے گر جاؤ کہ پارلیمنٹ کی فلور پر کہیں ۔۔ کہ اللہ نے خود بیت المقدس یہود کے حوالے یوں کر دیا ۔ کہ محم
 کو خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دے دیا۔۔ کیا پوری عمرمظلوموں کا رونا رونے والے انصا ف ؤکے عالمی علمبرادر جماعت کو فلسطین کی مظلوم ماں اور بہن اور معصوم بچے نظر نہیں آئے یا پھر آقاؤں کے حکم نامے نے یوں اندھا کردیا کہ اسرائیل دوستی میں انکی حیوانیت بھی یاد نہ رہی۔۔۔
کیا ابولفضل زمانہ مسٹر عامر لیاقت اسکو بھی اللہ کی طرف رجوع کہیں گے؟؟؟؟؟کیا یہ یو ٹرن تحریک انصاف کے قائد کا وہ فیصلہ ہے جسکو انصاف پسند مؤرخ سنہری الفاظ میں لکھے گا؟؟؟
کیا اوریا مقبول جان اور عامر لیاقت یہ بتاناپسند کریں گے کہ حاکم وقت یزید کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والے امام حسینؓ نے کیا یو ٹرن نہ لے کر ( نعوذ بااللہ) اللہ کی طرف رجوع نہیں کیا۔ یا پھر وہ بھی ہٹلر اور نپولین کی طرح ان ناکام لوگوں کی فہرست میں گردانے جائیں گے جنکو اپنی اصول پر سودے بازی نہ کرنے کی پاداش میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ۔۔ محترم خان صاحب اصول پر ڈٹ جانے والے امام حسین کے بارے میں کیا ارشاد فرمائیں گے۔ اور انکے حواری اس شعر کا کیا جواب دیں گے کہ ۔۔۔ؤ
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے ۔۔۔۔۔ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟ؤ
کیا یہاں یوٹرن لے کر امام حسین اپنے 
۷۲ ساتھیوں سمیت وقتی کامیاب نہیں ہو سکتے تھے؟؟ کیا مختلف موقعوں واپسی کے دئے گئے مشوروں پر عمل پیرا ہور زندگی کی اور بہاریں نہیں دیکھ سکتے پھر کیا وجہ تھی کہ انہوں نے موت کو گلے لگا دیا۔ اور کامیابی کو وقتی مفاد کی بجائے ابدی زندگی میں ڈھونڈا ۔۔جو اللہ کے ہاں عظیم ہے ۔۔؟؟؟؟
پوری ؤعمر لوٹوں اور ابن الوقتوں پر تنقید کے نشتر چلاؤنے والے ، چوروں ڈاکوؤں اور ظالموں کو تہ تیغ کرنے کا عزم کرنے والے آن صاحب آج بڑی سفاکی کے ساتھ ؤانکو صف اول میںؓ ٹھا کر مدینے کی ریاست کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ لیکن کیا یہ سب تحریک انصاف کے اساسی فؤکر سے متصادم نہیں۔۔ کیا فواد چودہری ، شیخ رشید اور چودھری پرویز الٰہی کی شمولیت اپنے کل پر نادم ہو کر اللہ کے حضور رجوع ہے یا پھر حصول اقتدار کا وہی فارمولا جسؤکو ہر سرمایہ دار نے استعمال کیا۔۔ کیا ابوالفضل اور فیضی صاحبان اسکو رجوؤع کہیں گے یا مسند کی خاطر اصول کی قربانی۔۔۔ کیونکہ حبیب جالب نے تو بڑے دبنگ انداز میں ؤشاید خان جیسے کئی ایک کو مخٓطب کرکے کہا۔۔۔
اصول بیچ کے مسند خریدنے والو!!!۔۔۔ نگاہِآ اۃل وفا میں بہت حقیر ہو تمؤ
ان مثالوں سے شخص پرستی کے مریضوں ، تحریک انصاف کے اندھی تقلید والے حواریوں اور مفاد پرست کابینہ کو شاید حکمت عملی میں تبدیلی، یو ٹرن اور اپنے اصولوں سے نہ پھر جانا ، اپنے نظریات کو نہ بیچنا اور اپنے عقائد پر سودے بازی نہ کرنے کا فرق سمجھ میں آجائے۔۔۔
جہاں اصول ، عقائد اور نظریات ہوتے ہیں وہاں انسان ڈٹ کر مقابلہ کرنے کو کامیابی سمجھتا ہے۔ اس صف میں امام حسین تو بہت بڑی مثال ہے اگر ہم تاریخ کو کنگھالیں تو طارق بن زیاد، امام احمد بن حنبل ، فتح علی ٹیپو سلطان ، شیخ الہند محمود الحسن اور اسطرح کے لاتعداد قوم و وطن کے سپوت ہمیں نظر آتے ہیں جنہوں نے اپنی جانیں قربان کر دیں لیکن اپنے اصول ، نظریات اوروضع کردہ فلسفے سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹے۔ ہاں جہاں حکمت عملی کی بات ہوتی ہے وہاں تبدیلی یا وقتی تغیر انسانی تاریخ کا حصہ رہا ہے۔
لیکن آج تک تحریک انصاف نے بڑے ادب کے ساتھ حکمت عملی میں تبدیلی سے کہیں اآگے بڑھ کر اپنے اساسی اور بنیادی فلسفے کی دھجیاں بکھیر کے رکھ دیں ہیں جنکو بڑی بہادری کے ساتھ اصول پر سودے بازی یا پھر وقتی مفاد کے لئے اپنے نظریات کو بیچ کر مسند خریدنے کی بجائے خان صاحب کے حواری اسکو دور اندیشی اور حکمت سے بھرے فیصلے گردانتے ہیں۔
خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد ۔۔۔ جوچاہے آپکا حسنِ کرشمہ ساز کرے۔۔۔
میں بڑے ادب سے محترم خان صاحب کے یو ٹرن کے فلسفے اور اسکو کامیابی کی دلیل ماننے کی سوچ کو چیلنج کرنے کی جسارت تو نہیں کرتا ہاں اتنا ضرور کہوں گا کہ اگر واقعی ملک یا قوم ودین کے ہمدردوں کے لئے قوم و طن کے مفاد میں یو ٹرن کو کامیابی کی دلیل سمجھا جائے تو پھر میں حضرت ابراہیم کے نمرود کے آگ میں چھلانگ لگانے کو کیا نام دوں گا ؟؟؟
میں شاعر مشرق کے اس شعر کا کیا کروں گا ۔۔۔ؤ
بے خطر کود پڑا آتش نمرودؤ میں عشق۔۔
عقل ہے محو تماشائے لبِ بام ابھیؤ
کیا میں حکیم الامت کو بھی ان ناعاقبت اندیشوں میں شمار کروں جنکو یو ٹرن کے فوائد اور اہمیت کا پتہ نہ تھا؟؟؟ کہ ابراہیم خلیل اللہ کے فیصلے کی تعریف میں یہ اشعار لکھ ڈالے
میں زیادہ کچھ شخص پرستی اور ذاتی مفادات کے اسیروں کو نہیں کہوں گا بلکہ اتنا ہی کہوں گا کہ خان صاحب کے کم فہمئ اور کم علمی کو عقل و فراصت اور تدبر و حکمت کابھونڈا جامہ پہنانے کے لئے آپ جیسے مسکینوں، عقل و خرد سے عاری اور ضمیر اور جرات کے دشمنوں کو دنیا کی تاریخ بدلنی ہوگی جو میرے خیال میں ممکن نہیں۔۔۔۔۔
میرے لئے وزیر اعظم کی سوچ ملک و قوم کے لئے قابل احترام سہی۔۔ انکا جذبہ قابل قدر سہی لیکن اسکا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ انکی کہی ہر بات نص اور اصول کا درجہ رکھتی ہے۔ وہ بہر حال انسان ہیں۔ لیکن اوریا مقبول جان اور ڈاکٹر عامر لیاقت جیسے ابوالفضل اور فیضی شخصیت پرستی کے بت کو شاید توڑے کا نہ حوصلہ رکھتے ہیں اور نہ انہیں اسکا حکم ابھی ملا ہے۔۔ لہذا انکی مجبوری ہے۔۔ اور شخص پرستی اور مفاد کے گرداب میں اتنا برؤے پھنس چکے ہیں کہ ان کو شاہ کی وفاداری میں دین کے اساسی نقطہ نظر کو بھی متازع کرنے میں بھی کوئی شرم نہ کوئی حیا آتی ہے۔۔۔۔۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

صحت