فکر شہاب شاہد آفریدی کو مشورہ

فکر شہاب

شاہد آفریدی کو مشورہ

کل رات ٹی۔وی پر پی ایس ایل فور کے بارے میں خبریں آرہی تھیں۔اسکے لئے کھلاڑیوں کے نئے انتخاب سے پہلے پرانے کھلاڑیوں کو مختلف ٹیموں نے یا تو برقرار رکھا یا پھر انہیں فارغ کردیا تاکہ وہ اپنی مرضٰی سے کسی اور ٹیم میں جا سکیں۔ اسی دوران ایک نجی چینل پر یہ خبر میرے لئے انتہائی حیران کن تھی کہ کراچی کنگز نے لالہ شاہد خان آفریدی کو ریلیز کر دیا۔۔ شاہد آفریدی کی کرکٹ اور اپنے ملک کے لئے خدمات قابل تعریف اور شاندار ہیں۔ وہ جس درجے کا کھلاڑی ہے اسکے پیشِ نظر کراچی کنگز کے روےئے نے ذاتی طور پر مایوس کر دیا۔اور میں اس سوچ میں پڑگیا کہ اب لالہ کس ٹیم کی طرف جائیں گے کیونکہ ہم جیسے انکے فینز اب بھی انکو کھیلتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ پشاور زلمئی کو چھوڑتے ہوئے انکا بیانیہ تھا کہ کراچی کا ان پر حق ہے کہ وہ وہاں وہ رہتے اور پلے بڑھے ہیں۔ اگرچہ ایک پشتون کی حیثیت سے یہ امر قابل تکلیف تھی کہ پشاور زلمئی کو چھوڑ کر وہاں جائیں لیکن لالہ کی محبت میں ہم نے انکے دلیل کو درست مان کر کراچی کنگز کے لئے دعائیں بھی کیں۔ لیکن کراچی کنگز نے شاید شاہد خان آفریدی کے جذبات اور انکے خدمات کی وہ قدر نہ کی جنکی ان سے توقع تھی۔ سلمان اقبال ایک بزنس مین کی حیثیت سے جو سوچتے ہیں انکا حق ہے ۔ لیکن اب سوال یہ ہے ۔ کہ اگلے پی ایس ایل میں لالہ کس طرف سے کھیلیں گے؟؟ یہی گو مہ گوں کی کیفیت تھی کہ میں نے پشاور زلمئی کے چئیرمین جاوید آفریدی کو ان سے اپنی محبت ، احترام اور بھائی چارے کا اظہارکرتے ہوئے ایک نجی ٹی وہ چینل پرانکو بڑی فراخدلی سے زلمئی فیملی کا اساسی ممبر مانتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارابھائی ہے اور جب چاہیں جیسے چاہیں ہمارے دست و بازو بن سکتے ہیں جس کی ہمیں ے حد خوشی ہوگی۔
یقیناًیہ بہت بڑے دل اور اعلے اخلاقی اقدار کا مظاہرہ جناب جاوید آفریدی کی طرف سے کیا گیا۔ حقیقی سپورٹ مین سپرٹ کے ساتھ انہوں نے لالہ کی عزت بڑھادی۔ جسکی مجھے بے حد خوشی بھی ہوئی اور میں امید کرتا ہوں کہ جناب جاوید آفریدی اس معاملے میں شاہد خان آفریدی کی اور بھی عزت کرنے میں اور انکو پشاور زلمئی کا حصہ بنانے میں کوئی کوتاہی نہیں کریں گے
شاہد خان آفریدی کے مداح کی حیثیت سے میں جب سوچتا ہوں کہ ایک دفعہ زلمئی کو چھوڑ کر دوبارہ ان جیسے قد و قامت کے کھلاڑی کو واپس آناکتنا مشکل ہوگا تو واقعی شش و پنج میں مبتلا ہوتا ہوں لیکن پھر جب دوبارہ یہ سوچتا ہوں کہ ایک آفریدی ہونے کی حیثیت سے اور اپنے علاقے کا اپنے دل میں درد رکھتے ہوئے جب وہ کراچی میں رہتے ہوئے ہسپتال کوہاٹ میں بنا رہا ہے تو اس سے انکی اپنے علاقے سے محبت اور پیار واضح ہوتا ہے۔ ایسے وطن دوست اور اپنی قوم سے محبت کرنے والے انسان کے پاس کراچی کنگز کے بعد کہیں اور جانے کا کیا جواز ہوگا۔ اسلئے ہماری درخواست اور التجا ہوگی کہ لالہ اپنے پرانے اختلافات یا ناراضگیاں یا گلے شکوے پسِ پشت ڈال کر اپنے گھر کے لوگوں میں واپس آجائیں۔ اور اسمیں کوئی بری بات نہیں۔ پشاور انکا آبائی گھر ہے۔ اور یہ میری طرح ہر ایک پشتون کی خواہش ہوگی کہ وہ دوبارہ پشاور زلمئی کا حصہ بنیں۔ کیونکہ اپنے گھر میں واپس لوٹ آنے کو دنیا کو کائی انسان نہ برا سمجھتا ہے اور نہ ہی اسکی دلیل مانگتا ہے۔ بلکہ زیاد سے زیادہ یہی کہہ دیگا کہ صبح کا بھولا اگر شام کو گھر واپس آجائے تو اسے بھولا نہیں کہتے



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

صحت