سیکولر اور لبرلز کی حکیم اللہ محسود ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر شیریں مزاری

25 جولائی کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی مرکز ، پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں حکومتیں بنی ہیں۔ عمران خان ملک کے 22 ویں منتخب جمہوری وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھا چکے ہیں۔ لیکن امریکہ میں ماسوائے چند ایک تبصروں اور رائے کے اکثر حلقے عمران خان کی امریکہ مخالف پالیسیوں ، طالبان کی بھرپور حمایت اور امریکی

ڈرون حملوں کی شدید مخالفت کی وجہ سے ابھی تک شک کی نگاہ سے دکھتے آرہے ہیں۔دوسری جانب مغرب میں عمران خان کو مقتدر حلقوں کا منظور نظر ہونے کا طعنہ بھی گاہے بگاہے دیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں اہم قلم کاروں سمیت اگرچہ پوری پاکستانی قوم مغرب اور امریکہ کے تاثرات سے قطعا لاتعلق ہوکر عمران خان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر نئے پاکستان کو دیکھ رہی ہے۔ عین اسی وقت عمران خان ایک سینیٹر اور سیاسی رہنما اور پارلیمنٹ میں پارٹی کی نمائندگی کرنے والی ، مسند وزارت پر برجمان شیریں مزاری نے پشتون قوم کے خلاف جو ہرزہ سرائی کی ہے۔ اس نے میڈیا میں ایک طرف پوری دنیا میں ایک سوال کھڑا کردیا ہے، کہ اگر شیریں مزاری سچ کہ رہی ہے تو عمران کا طالبان خان ہونا سو فیصد درست خطاب ہے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری اگرچہ ایک پڑھی لکھی اور نہایت تجربہ کار سیاستدان ہیں لیکن انکے ماضی کو دیکھ کر قطعا یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ڈاکٹر صاحبہ خود انتہا پسندی کے ایک گروہ کی نمائندہ ہے۔ وہ اس گروہ کی نمائندہ ہےجومذہب،قومیت ،ثقافت کو سر بازار بیچ کر انسانیت کی فلاح و بہبود کی جھوٹی باتیں کرتے ہیں۔ہمارے ملک میں دو قسم کے انتہا پسند ہیں۔ ایک مذہبی انتہا پسند دوسے لادین انتہا پسند۔ اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دوسری انتہا پسند جماعت کے اگر ڈاکٹر صاحبہ سرخیل نہیں تو ایک سینئر لیڈر ضرور ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اگر وہ لادین انتہا پسندوں کی ملا فضل اللہ نہ بھی ہوں حکیم اللہ معسود ضرور ہیں۔ انکی تعلیم اور ڈگریوں کو دیکھ کر، انکے تجربے اور سیاسی زندگی پر نظر دوڑا کر صرف ان پر ترس آتا ہے۔ بلکہ تحریک انصاف سے بھی دلی ہمدردی ہو رہی ہے کہ کیسے کیسے لوگوں کو ملکی قیادت کے لئے آگے کردیا۔جس پشتون قوم نے عمران خان کی قیادت کو 2013 میں پاکستان بھر میں تسلیم کیا وہ قوم جس نے تحریک انصاف کو اپنے صوبے میں حکومت کا موقع دیا اس قوم کو من حیث القوم ڈاکٹر شیریں مزاری کا تنگ نظر اور قدامت پرست کہنا انتہائی غیر اخلاقی عمل ہے۔
اور ان کو مجموعی طور پر طالبان کے مصداق بنادینا شیری مزاری کے پست ذہن ، پراگندہ خیالات، پشتون قوم سے بغض او رامریکہ بہادر کو خوش کرنے کی سعی لاحاصل آشکار کرتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جو بات امریکی آج تک خود نہیں کرتے ڈاکٹر صاحبہ انکی خوشنودی اور قوم ومذہب کی نفرت اتنا آگے نکلی کہ امریکیوں کی ترجمان بن کر کہہ رہی ہیں کہ ایک عام پشتون اور طالبان میں امریکیوں فرق کرناآسان نہیں۔

اب اس بیان کا ہم کیا مطلب لیں کہ ڈاکٹر شیری مزاری بغیر عوامی مینڈنٹ کے جوقوم پر بوجھ بنی ہیں انکی اس نمائندگی میں ان قدامت پسندوں کا سب سے بڑا حصہ ہے تو کیا وہ خود دہشت گردوں کی نمائندہ ہیں؟ یا پھر اپنے آپکو سیکولر ، لبرل اور مغرب زدہ کے تمغے دے کر صرف اپنے ووٹر کو کسی کی خوشنودی کیلئے ایسے بیہودہ القابات دے رہے ہیں۔

پشتون کی قوم کی ثقافت اور بودوباش اللہ کا فضل ہے کہ عمران کو سب سے زیادہ پسند ہے تو شیری مزاری کے اس بیان کے بعد کیا عمران خان اور القاعدہ کے لوگوں میں بھی کوئی خاص فرق نہیں ہے؟؟کیونکہ وہ ایک خان اور پشتون ثقافت کے بہت بڑے سفیر ہیں۔میرے خیال میں وقت آگیا ہے کہ عمران خان اپنی کابینہ کے وزراء کا کسی سیاسی مدرسے میں یا تو داخلہ کروادیں تاکہ ان کو قوم بلکہ پاکستان کا نمائندہ بننا سمجھ میں آجائے یاپھر انکی تربیت کیلئے خود بنی گالہ میں انتظام کرے۔ اورجہاں تک ڈاکٹر شیری مزاری کا سوال ہے تو انکے بیان سے اگرچہ پشتون قوم کی دل آزادی ہوئی ہے لیکن تعفن بھرے نالے سے انسان خوشبو کی توقع کرے یہ بیوقوفی ہے۔ لیکن پشتون قوم کی عمران خان سے محبت اور تحریک انصاف پر اندھا اعتماد اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ڈاکٹر شیریں مزاری یا تو اپنے بیان پر پوری پشتون قوم سے معافی مانگے یا پھر ہمت کرکے اپنے قائدمحترم عمران خان کو بھی طالبان خان کا لقب دے ڈالے کیونکہ ان کا بودوباش، انکی رہین سہن اور انکی پشتون قوم کیلئے سچی محبت کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ امید ہے تحریک انصاف سیکولر اور لبرل طبقے کے اس حکیم اللہ محسودنی کو شٹ اپ کال دے کر آئندہ ایسے بیانات دینے سے سختی سے روکنے کے اقدامات کرے گی۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

صحت