جس دیس کی آزدی کے لئے ہم سب کچھ اپنا ہار گئے

آج ملک بھر میں پاکستان کا یوم آزادی ے جوش و خروش سے منایا گیا۔ملک کے نوجوانوں ، بچوں اور بوڑھوں نے بھر پور طریقے سے سبز رنگ کو ہر طرف بکھیر کے دنیا کو یہ پیغام دے دیا کہ پاکستان میں ملک و قوم کے لئے متحرک جانوں کی ابھی کمی نہیں۔ روایتی نداز میں بابائے قوم اور حضرت علامہ اقبال کے مزاروں پر حاضری بھی د ی گئی۔ ظاہر ہے ۔

وزیرِ اعظم کی جانب سے اور صدر مملکت کی جانب سے کسی کے لکھے گئے پیغامات بھی ٹی وی کی زینت بن گئے ۔ اور سب سے بڑھ کر ملک کے من چلوں کو جی بھر کے اپنے شوخیوں اور رنگینیوں کو پبلک کرنے کے بھی کافی مواقع مل گئے۔ کیونکہ آزادی کے دن تو اب یہ تاثر سا بن گیا ہے کہ اس دن سکرین پر میڈیاکے پروفیشنلز بڑے نپے تلے انداز میں آزادی کے پروگرام ترتیب دیتے ہیں۔جبکہ سڑکوں پر من چلوں اور ملک سے محبت کرنے والوں کا راج ہوتا ہےمیں دیار غیر میں بیٹھ کرشاید اس شور و غل کو دیکھ کر بے ساختہ جالب کو یاد کر رہاتھا۔۔۔۔ کہاں ٹوٹی ہیں زنجیریں ہماری۔۔۔۔ کہاں بدلی ہیں تقدیریں ہماری ساتھ ہی ساتھ فیض بھی دل و دماغ کے دروازوں پر دستک دے رہا تھا۔ کہ نثار میں تری گلیوں پہ اے وطن کہ جہاں۔۔۔۔ چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے ایک طرف اللہ رب العزت کا بار بار شکر ادا کرتا گیا ۔ کہ اکابر کی جدو جہد سے آج ہم ایک مملکت خداد کے مالک ٹھہرے۔ تو دوسری طرف مجھے شہداء بالاکوٹ، ۱۸۵۷ء کے جنگ آزادی کے شہداء، شاملی اور تھاننہ بھون کے مجاہد، مولانا محمد علی جوہر اور مولانا سؤشوکت علی کی قربانیاں، ابگریز کے سامنے ڈت کر کٹ مرجانے والے مسلمان آکالا پانی میں شیخ الہند کی صعوبت بھری زندگی ، جلیانوالہ باغ کے شہداء اور پھر تحریک پاکستان کے ان گنت گمنام شہید رہ رہ کر یاد آرہے تھے۔ ایسے لگ رہا تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔ لا الہ الا اللہ کا نعرہ میرے کانوں میں ایسے گونج رہا ہے جیسا کہ میں ابھی بھی محمد علی کی قیادت میں آزادی کے متوالوں کے بیچ کھڑا ہوں۔ ساری خوشیوں ، مسرتوں اور آزادی کے نام پر ہونے والے ہر پروگرام کو دیکھ کر ذہن میں ایک سوال ابھر رہا تھا۔۔ کہ کیا ہم نے اپنے اباو اجداد کے خون سے حاصل کئے گئے اس ملک کے قیام کا حق ادا کردیا۔ ؟؟؟ ذہن میں ایک کشمکش سی چل رہی تھی ۔ کہ کیا ہم نے اپنے اسلاف کے خون کے ساتھ کہیں غداری تو نہیں کی؟؟؟ ضمیر بار بار تقسیم کے وقت لاکھوں بے گھراور عصمتیں قربان کرنے والے خاندانوں کی تصویریں سامنے لا کر پوچھ رہا تھا۔ کہ کیا ان لاکھوں خاندانوں کے قربانیوں کی لاج ہم نے رکھ لی؟؟؟؟؟ کیا ہم نے قیام پاکستان کا جو

مطلب اور مقصد تھا وہ پورا کر لیا۔ کیا آزادی کا مفہوم ہم اپنی قوم کو سمجھانے میں کامیاب ہوگئے؟؟؟ کیا مملکت خداداد پاکستان میں وہ آزادی جو ہمارے اسلاف کا خواب تھا ہر ایک شہری اور ہر ایک انسان کو بلا تمیز رنگ و نسل و مذہب کے میسر ہے؟؟؟؟ اور سب سے بڑھ کر اس ملک کے بانی اور اسکے مفکر کے جو پیغامات ہیں ۔۔ کیا ہم نے اسکے روح کو سمجھ کر اللہ تعالی کے اس نعمت پاکستان کو اس سانچھے میں ڈھالنے کی ایک ادنی سی کوشش بھی کی ہے؟؟؟۔ کیا اقبال کا فلسفہ خودی اورفسلفہ ایمان ہم نے مفادات کی سیاست اور جنگ میں کسی گہرے کنویں میں دفنا تو نہیں دیا؟؟؟؟ ذہن پریشان اور ضمیر بوجھل ہورہا تھا۔ احساس عجیب طرح سے زخمی اور ملک و قوم کی بے حسی اور اپنے مقصد اور نصب العین سے دوری پر مضمحل اور پریشان ہورہا تھا۔ ہزار کوشش کے باوجود دل پر ندامت کا بوجھ تھا جو کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ میں نے بیٹھ کر ٹی وی پر خوبصورت اور پر جوش ترانے دیکھ کر ضمیر و احساس سے آنکھ چرانے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ پھر میرے اپنے ہی اشعار میں میں نے بابائے قوم محمد علی جناح اور حکیم الامت علامہ اقبال سے ان الفاظ میں معافی مانگ کر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا دیا۔ اے شاعرِ مشرق خواب ترے۔۔۔ اس قوم نے چکنا چور کئے تہذیب و ثقافت مغرب سے ۔۔ دل اپنے ہی پر نور کئے اے قائدِ اعظم دیکھ ذرا۔۔۔ تیرے دیس کی حالت عجیب سی ہے گرا خون ہے جس کے پاس پڑی ۔۔۔ بھرے چوک میں لاش غریب کی ہے جو ملک لا الہ الا اللہ کے نام پر اور اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالنے کے لئے حاصل کیا گیا۔ اے کاش ۔۔۔ آج اسی ملک میں سب سے زیادہ مظلوم وہی دین ٹھہرا۔ آج اس پیارے ملک میں اسی دین اکبر کو بنیاد بنا کر لوگ ایک دوسرے کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ جس دین رحمت نے اس ملک کے معاشرے کو پیار و محبت اور امن آشتی کا گہوارہ بنانا تھا۔ صد افسوس !!! آج اسی دین کے نام پر یہاں مسلمان دوسرے مسلمان کا گلہ کاٹ رہا ہے۔ اس ملک کے پارلیمان میں اس دین خداوندی کا اغیار کی خوشنودی کے لئے حلیہ بگاڑنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے جس دین کی بقاء اور حفاظت کے لئے اللہ نے ہمیں اس نعمت خداداد سے مالا مال کیا۔۔ آج ہم ملک کے وفادار کم اور اپنے مفاد کے زیادہ نظر آتے

ہیں ہماری ساری ملک پرستی اور وطن دوستی صرف۱۴ اگست کو جاگ جاتی ہے۔۔ یا پھر گانوں ترانوں تک ہم وطن پرست ہیں۔ اس ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے کام کرنا، اس ملک کے مفاد پر اپنے مفاد کو قربان کرنا، اس ملک کے نظریاتی اساس کی حفاظت کرنا، اس ملک کے بانیوں کے فکر اور سوچ کو عوام میں پھیلا کر ترویج دینا، اس ملک کے نظریاتی پہلوں کی محبت قوم کے دل میں اجاگر کرنا شاید ہم ایک آزاد ملک کے لئے ضروری ہی نہیں سمجھتے ہیں جبھی تو ہم آزادی کے دن سے لیکر آج تک رہ بہ زوال ہیں۔ آزادی کا جشن منانا معیوب نہیں بلکہ قابل تحسین و آفرین ہے ۔ آزادی کے دن اپنے وطن سے اظہار محبت میرے نزدیک ایمان کا حصہ ہے۔ لیکن لفظی اور وقتی آزادی کا جشن منانے کے ساتھ ساتھ اگر ہم آزادی کے مفہوم کو سمجھ کر آزادی کے جو مقاصد اسلاف طے کرکے گئے تھے۔حاصل کرنے کی بھی کوشش کریں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ ملک ترقی کے شاہراہ پر گامزن ہوگا۔ مجھے یقین کامل ہے کہ پھر یہاں پر چوروں اور ملک دشمنوں کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ پھر یہ بات اٹل ہے کہ اگر وطن پرستی اور دین پرستی کے بنیادی اساس کو ہم اپنے اسلاف کی نظر سے جان کر انہیں بھی اپنی سوچ کا حصہ بنا دیں تو پھر پاکستان کے حصول کے بنیادی مقاصد حاصل کئے جاسکتے ہیں اور یوں ہم بانئی پاکستان اور اس ملک کے لئے لاکھوں شہداء کے سامنے سرخروہوں گے۔ لیکن اگر ہم صرف آزادی وطن کو ۱۴ اگست پر رنگ برنگے لباس اور رقص و سرود تک ہی محدود رکھیں تو پھر ہماری آنے والی نسلیں شاید اس دن کو ایک رسم کے طور پر منائیں گی اور ان میں آزادی کا وہ جذبہ اور شعور بیدار نہیں ہوگا جس جذبے اور فکر کو بنیاد بنا کر بابائے قوم نے ہندوستان سے الگ ہوکر اس ملک کی بنیاد رکھی تھی۔۔۔۔
پاکستان زندہ باد۔۔۔۔۔اساس پاکستان پائندہ باد



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

صحت